تعلیم کا مقصد شعور یا پیسہ؟؟
ایک نوجوان میٹرک کے بعد پریشان ہوتا ہے کہ میں کیا کروں؟؟ اور زندگی میں آگے کیسے بڑھوں ؟؟ گھر والے کہتے ہیں کہ بیٹا! تعلیم حاصل کرو۔ دوست کہتے ہیں! فلاں یونیورسٹی میں آجاو اور فلاں ڈگری کر لو۔ نو جوان بڑے ہی سمجھداری سے فیصلہ کرتا ہے کہ مجھے فلاں ڈگری کرنی چاہیئے اور زمانے کے رجحانات اس فیصلے میں پیش پیش ہوتے ہیں لھذا وہ مخصوص پڑھائی کرنے کی ڈھان لیتا ہے۔ اس کے دل و دماغ میں صرف یہی بات چل رہی ہوتی ہے کہ جب میں پڑھ کر فارغ ہو جاونگا اور اعلیٰ ڈگری لے لونگا تو میری ایک اچھی نوکری ہوگی اور میں زیادہ پیسہ کماونگا اور میں ایک کامیاب انسان بن جاونگا مگر افسوس کے چند سال بعد جب اتنا وقت،پیسہ اور صلاحیتیں برباد کر کے ایک ڈگری ہاتھ آتی ہے تو نہ اچھی نوکری ملتی ہے نہ پیسہ ہاتھ آتا ہے اور نا ہی معاشرے میں کوئی عزت ملتی ہے۔ جدھر نوکری کے لئے جاو سب کہتے ہیں تجربہ (experience) لاو اور مہارت(skills) لاو. تو لیجئے زندگی کی دو سے ڈھائی دہائیاں گزارنے کے بعد صاحب بہادر کو پتہ چلتا ہے کہ بغیر تجربہ و مہارت کے کچھ حاصل نہ ہوگا نہ کامیابی اور نا ہی پیسہ ۔ پھر یہاں سے نوجوان تین گروہوں میں بٹ جاتے ہیں کوئی چھوٹی موٹی نوکری کرتا ہے اور معاشی پریشانیوں کے سایہ میں اپنی زندگی کا گزر بسر کرتا ہے ، ساری زندگی پریشانیوں میں گزارتا ہے۔ دوسری قسم ان نوجوانوں کی ہوتی ہے جو زیادہ محنت کرتے ہیں اوراپنی سمت متعین کرتے ہیں اور زیادہ آسائشیں اور وسائل اپنے گرد جمع کر لیتے ہیں مگر ایک مقام پر جاکر رک جاتےہیں ،وہ کوئی نمایاں ترقی نہیں کرتے اور تیسری قسم ان نوجوانوں کی ہوتی ہے جو زیادہ وسائل اور زیادہ اشیاء کے ساتھ زیادہ روحانیت بھی سمیٹنے والے ہوتے ہیں،وہ لوگوں کے کام بھی آتے ہیں اور لوگ ان سے محبت بھی کرتے ہیں ۔ وہ ہر دن نئے کام کرنا چاہتے ہیں اور اپنی زندگی کو بامقصد بناتے ہیں۔ وہ ہر مقام پر پہنچ کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور پھر اس سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بہت کم ہے۔سو مضمون کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے انسان کی فلاح و بہبود صرف مادی فلاح میں نہیں ہے بلکہ مادی و روحانی فلاح کی یکجائی میں ہے ۔
میں نے اپنے کالج کے زمانے میں کچھ ایسے کیسز دیکھے کہ عام طور پر والدین اپنے بچوں کی تعلیم پر پیسہ خرچ کرتے ، ہر مہینے کی ، ہر سال کی ،اور پھر یونیورسٹی میں ہر سیمسٹر کی فیس بھرتے ہیں اور جیسے ہی ڈگری مکمل ہوتی ہے تو اس سے نوکری کا یا پیسوں کا مطالبہ شروع کردیتے ہیں گویا کہ اب وہ ایک پیسہ کمانے کی مشین بن گیا ہے جب دل چاہے اس میں سے کڑک کڑک نوٹ نکال لیجئے ۔ پھراگر قسمت سے اسے کوئی جاب مل گئی تو فبھا وگرنہ وہ یونہی سڑکوں پر اپنی ڈگری لیے پھرتا رہتا ہے اور کوئی مسیحا اسے نہیں بتاتا کہ بیٹا ! نوکریاں ڈگری سے زیادہ اسکل کی بنیاد پر ملتی ہیں ۔یہ مسئلہ پیدا ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جس بچے کو زندگی کے سولہ سے بیس سال کسی نے پیسہ کمانا نہیں سکھایا اور نہ ہی کسی نے اسے مہات اور تجربہ کے میدانوں سے متعارف کرایا ،اب اس سے مطالبہ معاش ہے تو وہ بے چارہ اس میدان میں عاجز و ناتواں ہے اور اتنا وقت گزارنے کے بعد اور اتنی ڈگریاں کرنے کے بعد وہ صرف اسکل اور تجربہ نہ ہونے کی وجہ ہے وہ احساس کمتری کا شکار ہے ۔
پہلے تو یہ نظریہ صحیح کرنا ضروری ہے کہ تعلیم کا مقصد ’’ شعور ‘‘ہے پیسہ نہیں ۔کتنی عجیب بات ہے کہ ہم بچوں کو تعلیم اس لئے نہیں دلواتے کہ وہ اچھے اور با شعور انسان بنیں گے بلکہ اس لیے پڑھاتے ہیں کہ وہ زیادہ پیسہ کمائیں گے ۔معذرت کے ساتھ ڈگریاں لینے والے آج ڈپریشن کا شکار ہیں اور تجربہ و مہارت رکھنے والے خوشحال زندگی گزار رہے ہیں ۔کیوں کہ تعلیم انسان میں شعور لے کر آتی ہے اور مہارت اور تجربہ اس تعلیم کو پیسوں میں منتقل کرتے ہیں ۔لھذا خوشحالی کے لئے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اسکل کا ہونا اور پھر اسکل پر مہارت ہونا بھی ضروری ہے ۔آج گوگل اور ایپل جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی بعض عہدوں کے لیے ڈگری کی ضرورت کو ختم کر چکی ہیں اور امیدواروں کی مہارتوں اور تجربے پر توجہ مرکوز کرنے کا کہ رہی ہیں، دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں میں ملازمین کا ایک بہت بڑا حصہ غیر سند یافتہ ہے مگر اپنی مہارتوں کی وجہ سے وہ کامیابی کی منزلوں کو جھو رہے ہیں ۔
یادرہے کہ یہ مضمون تعلیم حاصل کرنےکے خلاف نہیں بلکہ معاشی خوشحالی کو تعلیم پر منحصر کرنے کے خلاف ہے کیونکہ موجودہ تعلیمی نظام تمام تر مہارتوں سے عاری ہے اور حقیقی زندگی میں کامیابی کے لئے مہارتوں کی ضرورت ہے ۔اگر بچوں کو شروع سے ہی تعلیم کے ساتھ ساتھ مختلف مہارتیں دی جائیں تو بہت ممکن ہے کہ وہ وقت سے پہلے ہی اپنی اور اپنے خاندان کی خوشحالی کا سبب بن جائیں گے۔ آخر میں ہم چند کام تحریر کئے دیتے ہیں جن پر عمل کر کے بچوں کے والدین اور نوجوان اپنے مقاصد کا تعین احسن اندازمیں کر سکتے ہیں
والدین کے لئے کرنے کے کام :
1۔ بچوں کے کیرئیر کے بارے میں ماہرین سے مشورہ کریں ۔
2۔بچوں کو قابل اور ماہر لوگوں سے متعارف کروائیں ۔
3۔کیرئیر کے بارے میں بچوں کی چاہت کو اپنی چاہت پر فوقیت دیں ۔
نوجوانوں کے کرنے کے کام :
۔اپنی شخصیت کو پہچانیں اور اس کے مطابق اپنے ذاتی فیصلے کریں ۔
2۔ کوئی موثر کن شخصیت ڈھونڈیں اور اس میں موجود خصوصیات اپنے اندر پیدا کرلیں ۔
3۔ سوشل اسکلز سیکھیں اور اپنے حوصلے کو بلند رکھیں ۔
یہ وہ کام ہیں جو کئے جاسکتے ہیں اور ان کا مثبت اثر ہماری شخصی اور قومی حالت بدل سکتا ہے ۔ جس طرح تعلیم حاصل کرنا ہر شخص کی بنیادی ضرورت ہے ایسے ہی مہارتیں حاصل کرنا بھی ہماری معاشی اور معاشرتی خوشحالی کے لئے بے حد اہم ہے۔